چارا[1]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - گھاس، کربی یا چری وغیرہ جو مویشیوں کو کھلائی جاتی ہے، غذا، خوراک۔  کس کو اس کے سوا ہے یارا پہونچائے جو ان سبھوں کو چارا      ( ١٩٢٨ء، تنظیم الحیات، ٢١٨ ) ٢ - وہ چیز جو مچھلی کے کانٹے میں لاسے کے طور پر لگائی جائے تاکہ مچھلی اس پر منہ مارے اور شکار ہو جاش، طعمہ۔ "بھاری مہاشیر ہے - پھر چارا لگا لیا جائے۔"      ( ١٩٤٤ء، انور، ٢٥٥ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ 'چَرت وَی + کَن' سے ماخوذ ہے اور قیاس کیا جاتا ہے پراکرت کے لفظ 'چرے اووان' سے بھی۔ اردو زبان میں بطور اسم کے مستعمل ہے۔ ١٦٤٩ء میں "خاورنامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - وہ چیز جو مچھلی کے کانٹے میں لاسے کے طور پر لگائی جائے تاکہ مچھلی اس پر منہ مارے اور شکار ہو جاش، طعمہ۔ "بھاری مہاشیر ہے - پھر چارا لگا لیا جائے۔"      ( ١٩٤٤ء، انور، ٢٥٥ )

اصل لفظ: چَرِتویَ+کَن
جنس: مؤنث